نظم 13 اشعار

کیا کروں

Kya Karoon

پھر دل میں درد سلسلہ جنباں ہے کیا کروںپھر اشک گرم دعوت مژگاں ہے کیا کروں

پھر چاک چاک سینہ ہے آواز دوں کسےپھر تار تار جیب و گریباں ہے کیا کروں

پھر اتصال گردن و خنجر ہے کیا کہوںپھر اختلاط زخم و نمک داں ہے کیا کروں

پھر اک گرہ حریف نفس ہے کسے بتاؤںپھر اک کھٹک رفیق رگ جاں ہے کیا کروں

سینے میں ایک دشنہ سا لیتا ہے کروٹیںرگ رگ میں ایک آگ سی غلطاں ہے کیا کروں

جس چیز پر مدار تھا درمان زیست کاوہ شے پھر آج درد کا عنواں ہے کیا کروں

پھر سر پر ابر دور جنوں ہے گھرا ہواپھر دل میں بوئے زلف پریشاں ہے کیا کروں

پھر عشق ناصبور کا پرتو ہے روح پرپھر دل حضور عقل پشیماں ہے کیا کروں

بیتے دنوں کی یاد پر افشاں ہے کیا کروںراتوں کی نم ہواؤں میں تاروں کی چھاؤں میں

بیتے دنوں کی یاد پرافشاں ہے کیا کروںجس چاندنی کو کھوئے ہوئے مدتیں ہوئیں

پھر ذہن کے افق سے نمایاں ہے کیا کروںتقدیر نے کبھی جو نکالا تھا اک جلوس

پھر جادۂ نفس پہ خراماں ہے کیا کروںوہ غم کہ دے چکا ہوں جسے بارہا شکست

پھر دل سے جوشؔ دست و گریباں ہے کیا کروں

— جوش ملیح آبادی