نظم 25 اشعار

وقت مروت

Waqt-e-Murawwat

علی الصباح کہ تھی کائنات سر بہ سجودفلک پہ شور اذاں تھا زمیں پہ بانگ درود

بہار شبنم آسودہ تھی کہ روح خلیلفروغ لالہ و گل تھا کہ آتش نمرود

جلا رہی تھی ہوا بزم جاں میں شمع طربمٹا رہی تھی صبا لوح دل سے نقش جمود

گلوں کے رنگ میں تھی شان خندۂ یوسفکلی کے ساز میں تھا لطف نغمۂ داؤد

ہر اک جبیں پہ درخشاں تھا نیر اقبالہر ایک فرق پہ تاباں تھا طالع مسعود

فضائے چرخ میں دوڑی ہوئی تھی روح ظہوربساط خاک پہ چھایا ہوا تھا رنگ نمود

حسین خواب سے چونکے تھے رسمسائے ہوئےمچل رہی تھی ہواؤں میں بوئے عنبر و بود

یہ رنگ دیکھ کر آیا مجھے خیال نمازمری نماز کہ ہے شاہد و شراب و شہود

مری نماز کہ ہے نغمۂ ہوالباقیمری نماز کہ ہے نعرۂ ہو الموجود

مری نماز کہ ہے عشق ناظر و منظورمری نماز کہ ہے حب شاہد و مشہود

مری نماز کہ ہے ایک ساز لافانیمری نماز کہ ہے ایک سوز لا محدود

مری نماز کہ ہے دید روئے ناشستہمری نماز کہ ہے طوف حسن خواب آلود

مری نماز ''نظر'' شیخ کی نماز ''الفاظ''یہاں چراغ وہاں صرف شمع کشتہ کا دود

یہاں ہے رشتۂ انفاس میں ترنم دوستیہاں لطافت احساس سے زیاں ہے نہ سود

فغاں کہ ''جنبش اعضا'' وہاں اساس نمازخوشا کہ لرزش دل ہے یہاں قیام و قعود

کسی مقام پہ حاصل نہیں قرار مجھےسحر کو ہوں جو برہمن تو شام کو محمود

غرض کہ آتے ہی وقت سحر خیال نمازجبیں تھی پائے صنم پر زباں پہ ''یا معبود!''

تمام راز نہاں کھل گئے مرے دل پرز تکیہ گاہ عدم تا بہ کارگاہ وجود

سر نیاز سے ظاہر ہوا تبسم نازبطون خاک سے پیدا ہوا در مقصود

اٹھا کے پھر سر پر شوق پائے جاناں سےکہا یہ میں نے کہ اے سرو بوستان وجود

بیا بیا کہ ترا تنگ در کنار کشیمز بوسہ مہر کنم بر لب شکر آلود

مرے لبوں کو بھی دے رخصت ترانۂ حمدہر ایک ذرہ ہے اس وقت آشنائے درود

یہ سن کے شرم سے کوئی جواب بن نہ پڑاجھکی نگاہ جبیں ہو گئی عرق آلود

حیا نے بڑھ کے پکارا یہ ''کاہشیں بیکار''نظر نے جھک کے صدا دی یہ ''کاوشیں بے سود''

''دہان یار کہ درمان درد حافظؔ داشتفغاں کہ وقت مروت چہ تنگ حوصلہ بود''

— جوش ملیح آبادی