نظم 9 اشعار

خبر ہے کہ نہیں

Khabar Hai Ke Nahin

اب صبا کوچۂ جاناں میں گزرے ہے کہ نہیںتجھ کو اس فتنۂ عالم کی خبر ہے کہ نہیں

بجھ گیا مہر کا فانوس کہ روشن ہے ابھیاب ان آنکھوں میں لگاوٹ کا اثر ہے کہ نہیں

اب میرے نام کا پڑھتا ہے وظیفہ کوئیاب مرا ذکر وفا درد سحر ہے کہ نہیں

اب بھی تکتی ہیں مری راہ وہ کافر آنکھیںاب بھی دزدیدہ نظر جانب در ہے کہ نہیں

چھپ کے راتوں کو مری یاد میں روتا ہے کوئیموجزن آنکھ میں اب خون جگر ہے کہ نہیں

حسن کو پرسش بیمار کا ہے اب بھی خیالمہر کی ذرہ خاکی پہ نظر ہے کہ نہیں

بے خبر مجھ کو زمانے سے کیا ہے جس نےکچھ اسے میری تباہی کی خبر ہے کہ نہیں

کھائے جاتا ہے مجھے درد غریب الوطنیدل پر اس جان وطن کے بھی اثر ہے کہ نہیں

جوشؔ خاموش بھی ہو پوچھ رہا ہے کیا کیاکچھ تجھے تاڑنے والوں کی خبر ہے کہ نہیں

— جوش ملیح آبادی