9 اشعار

اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپنا

Ab guzaara nahin us shokh ke dar par apna

اب گزارا نہیں اس شوخ کے در پر اپناجس کے گھر کو یہ سمجھتے تھے کہ ہے گھر اپنا

کوچۂ دہر میں غافل نہ ہو پابند نشسترہ گزر میں کوئی کرتا نہیں بستر اپنا

غم زدہ اٹھ گئے دنیا ہی سے ہم آخر آہزانوئے غم سے ولیکن نہ اٹھا سر اپنا

دیکھیں کیا لہجۂ ہستی کو کہ جوں آب رواںیاں ٹھہرنا نظر آتا نہیں دم بھر اپنا

گر ملوں میں کف افسوس تو ہنستا ہے وہ شوخہاتھ میں ہاتھ کسی شخص کے دے کر اپنا

وائے قسمت کہ رہے لوگ بھی اس پاس نہ وہذکر لاتے تھے کسی ڈھب سے جو اکثر اپنا

ذبح کرنا تھا تو پھر کیوں نہ مری گردن پرزور سے پھیر دیا آپ نے خنجر اپنا

نیم بسمل ہی چلے چھوڑ کے تم کیوں پیارےزور یہ تم نے دکھایا ہمیں جوہر اپنا

کیا کریں دل جو کہے میں ہو تو ہم اے جرأتؔنہ کہیں جائیں کہ ہے سب سے بھلا گھر اپنا

— جرات قلندر بخش