13 اشعار

گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گا

Go hoon wehshi pe tere dar se nah tal jaaoon ga

گو ہوں وحشی پہ ترے در سے نہ ٹل جاؤں گاہاں مگر دشت عدم ہی کو نکل جاؤں گا

طائر نامہ بر اپنا یہی کہتا ہے کہ آہرقم شوق کی گرمی سے میں جل جاؤں گا

جلد اے کاش جتاوے اسے جوبن اس کاپھر ہو کس کام کے تم جب کہ میں ڈھل جاؤں گا

آج گو اس نے بہ رسوائی نکالا مجھ کوگر یہی دل ہے تو پھر آپ سے کل جاؤں گا

مشورہ کر کے یہ دل کوچۂ جاناں کو چلاعزم تو لانے کا کیجو میں مچل جاؤں گا

گر یہی آتش الفت ہے تو مانند سپندآہ میں مجمر ہستی سے اچھل جاؤں گا

نو گرفتار محبت ہوں مری وضع سے تماتنا گھبراؤ نہ پیارے میں سنبھل جاؤں گا

وائے قسمت کہے جب صبر سا مونس یہ باتتجھ پہ دیکھوں گا برا وقت تو ٹل جاؤں گا

جلد خو اپنی بدل ورنہ کوئی کر کے طلسمآ کے دل اپنا ترے دل سے بدل جاؤں گا

جی کہیں تو نہ پھنسا ورنہ ترے دام سے میںآب غربال کی مانند نکل جاؤں گا

جوں حنا اپنے وہ قدموں سے نہ لگنے دیں گےاس تمنا میں اگر خاک میں رل جاؤں گا

جاتے جاتے کف افسوس اسی حسرت میںاشک بھر لا کے دم نزع بھی مل جاؤں گا

جن کے نزدیک ہے انداز غزل میرؔ پہ ختمان کو جرأتؔ میں سنانے یہ غزل جاؤں گا

— جرات قلندر بخش