11 اشعار

واں ہے یہ بد گمانی جاوے حجاب کیوں کر

Waan hai yeh badgumaani jaave hijaab kyun kar

واں ہے یہ بد گمانی جاوے حجاب کیوں کردو دن کے واسطے ہو کوئی خراب کیوں کر

قاصد جواب خط ہم لکھ دیں شتاب کیوں کرواں تو جواب مانگا لکھیے جواب کیوں کر

خواب و خیال سونا یاں ہو گیا ہے جس بنحیراں ہوں میں کہ اس کو آوے ہے خواب کیوں کر

اس سبزہ رنگ کی ہے گرمیٔ حسن گویاچمکے ہے مہر دیکھو زیر سحاب کیوں کر

کہتی ہیں چتونیں یوں بن ٹھن کے جب وہ نکلےاب دیکھنے کی دیکھیں لاوے گا تاب کیوں کر

وہ وصل میں بھی ہنس ہنس پوچھے ہے لو بتاؤکل روئیں گی تمہاری چشم پر آب کیوں کر

دل جس سے لگ گیا ہے وہ چھپ رہا ہے ہم سےدوڑے پھریں نہ ہر سو پر اضطراب کیوں کر

اللہ رے بھلاپا منہ دھو کے خود وہ بولے''سونگھو تو ہو گیا یہ پانی گلاب کیوں کر''

چالاکیوں کو سن کر اس غیرت پری کیگر رک کے کہیے اس کی ہم لائیں تاب کیوں کر

تو یوں لگے جتانے ''میاں تم تو ہو دوانےرہنے دے ہم کو نچلا عہد شباب کیوں کر''

اول بھی خاک ہی تھے آخر بھی خاک ہوں گےہر دم کہیں نہ جرأتؔ یا بو تراب کیوں کر

— جرات قلندر بخش