6 اشعار

اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اور

Ab ishq tamaasha mujhe dikhlaaye hai kuchh aur

اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اورکہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور

ناصح کی حماقت تو ذرا دیکھیو یاروسمجھا ہوں میں کچھ اور مجھے سمجھائے ہے کچھ اور

کیا دیدۂ خوں بار سے نسبت ہے کہ یہ ابربرسائے ہے کچھ اور وہ برسائے کچھ اور

رونے دے، ہنسا مجھ کو نہ ہمدم کہ تجھے ابکچھ اور ہی بھاتا ہے مجھے بھائے ہے کچھ اور

پیغام بر آیا ہے یہ اوسان گنوائےپوچھوں ہوں میں کچھ اور مجھے بتلائے ہے کچھ اور

جرأتؔ کی طرح میرے حواس اب نہیں بر جاکہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور

— جرات قلندر بخش