12 اشعار

کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیا

Kaun dekhe ga bhala is mein hai ruswaai kya

کون دیکھے گا بھلا اس میں ہے رسوائی کیاخواب میں آنے کی بھی تم نے قسم کھائی کیا

اس کا گھر چھوڑ کے ہم تو نہ کسی در پہ گئےپر سمجھتا ہے اسے وہ بت ہرجائی کیا

سنتے ہی جس کے ہوئی جان ہوا تن سے مرےاس گلی سے یہ خبر باد صبا لائی کیا

واہ میں اور نہ آنے کو کہوں گا توبہمیں تو حیراں ہوں یہ بات آپ نے فرمائی کیا

بہہ چلا چشم سے یکبار جو اک دریا سابیٹھے بیٹھے مجھے کیا جانے یہ لہر آئی کیا

حرف مطلب کو مرے سن کے بصد ناز کہاہم سمجھتے نہیں بکتا ہے تو سودائی کیا

شیخ جی ہم تو ہیں ناداں پر اسے آنے دوہم بھی پوچھیں گے ہوئی آپ کی دانائی کیا

کیفیت محفل خوباں کی نہ اس بن پوچھواس کو دیکھوں نہ تو پھر دے مجھے دکھلائی کیا

آج دم اپنا ٹھہرتا نہیں کیا جانیے آہمصلحت لوگوں نے واں بیٹھ کے ٹھہرائی کیا

بر میں وہ شوخ تھا اور سیر شب ماہ تھی راتاپنے گھر کیا کہیں تھی انجمن آرائی کیا

پر گیا صبح سے وہ گھر تو یہی دھڑکا ہےدیکھیں آج اس کا عوض لے شب تنہائی کیا

دیکھنے کا جو کروں اس کے میں دعویٰ جرأتؔمجھ میں جرأت یہ کہاں اور مری بینائی کیا

— جرات قلندر بخش