11 اشعار

یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوا

Yeh ghazab baithe bithaye tujh pe kya naazil hua

یہ غضب بیٹھے بٹھائے تجھ پہ کیا نازل ہوااٹھ چلا دنیا سے کیوں تو تجھ کو اے دل کیا ہوا

شکل ہی ایسی بنائی ہے تری اللہ نےمت خفا ہو گر ہوا میں تجھ پہ مائل کیا ہوا

ان دنوں حالت تری پاتا ہوں میں اپنی سی یارخوبرو تجھ سا کوئی تیرے مقابل کیا ہوا

اے بت خونخوار اک زخمی ترے کوچے میں تھاسو کئی دن سے خدا جانے وہ گھائل کیا ہوا

زنگ ہو کر قیس کا دل کارواں در کارواںنت یہ کہتا ہے کہ وہ لیلیٰ کا محمل کیا ہوا

فکر مرہم مت کرو یارو یہ بتلاؤ مجھےجس کے ہاتھوں میں ہوا زخمی وہ قاتل کیا ہوا

تھا جگر تو ٹکڑے ٹکڑے بر میں کیوں تڑپے ہے توکیوں دلا تیغ جفا سے تو بھی بسمل کیا ہوا

رنجشیں ایسی ہزار آپس میں ہوتی ہیں دلاوہ اگر تجھ سے خفا ہے تو ہی جا مل کیا ہوا

اپنے بیگانے سبھی ہیں مت اٹھا محفل سے یارگر کسی ڈھب سے ہوا یاں میں بھی داخل کیا ہوا

دیکھتے ہی تیری صورت مجھ کو اے آئینہ روسخت حیرت ہے کہ پہلو میں نہیں دل کیا ہوا

سوچ رہ رہ کر یہی آتا ہے اے جرأتؔ مجھےخلق کرنے سے مرے خالق کو حاصل کیا ہوا

— جرات قلندر بخش