10 اشعار

اے دلا ہم ہوئے پابند غم یار کہ تو

Ae dila hum hue paaband-e-gham-e-yaar keh tu

اے دلا ہم ہوئے پابند غم یار کہ تواب اذیت میں بھلا ہم ہیں گرفتار کہ تو

ہم تو کہتے تھے نہ عاشق ہو اب اتنا تو بتاجا کے ہم روتے ہیں پہروں پس دیوار کہ تو

ہاتھ کیوں عشق بتاں سے نہ اٹھایا تو نےکف افسوس ہم اب ملتے ہیں ہر بار کہ تو

وہی محفل ہے وہی لوگ وہی ہے چرچااب بھلا بیٹھے ہیں ہم شکل گنہ گار کہ تو

ہم تو کہتے تھے کہ لب سے نہ لگا ساغر عشقمئے اندوہ سے اب ہم ہوئے سرشار کہ تو

بے جگہ جی کا پھنسانا تجھے کیا تھا درکارطعن و تشنیع کے اب ہم ہیں سزا وار کہ تو

وحشت عشق بری ہوتی ہے دیکھا ناداںہم چلے دشت کو اب چھوڑ کے گھر بار کہ تو

آتش عشق کو سینے میں عبث بھڑکایااب بھلا کھینچوں ہوں میں آہ شرربار کہ تو

ہم تو کہتے تھے نہ ہم راہ کسی کے لگ چلاب بھلا ہم ہوئے رسوا سر بازار کہ تو

غور کیجے تو یہ مشکل ہے زمیں اے جرأتؔدیکھیں ہم اس میں کہیں اور بھی اشعار کہ تو

— جرات قلندر بخش