9 اشعار

عمل کچھ ایسا کیا عدو نے کہ عشق باہم لگا چھڑایا

Amal kuchh aisa kiya adu ne keh ishq baaham laga chhuraya

عمل کچھ ایسا کیا عدو نے کہ عشق باہم لگا چھڑایاالٰہی چھٹ جائیں اس کی نبضیں ملاپ جس نے مرا چھڑایا

نہ بیٹھے آرام سے وہ گاہے اٹھائے نت دکھ پہ دکھ خدایاکہ جس نے ناحق اٹھا کے بہتان اپنا واں بیٹھنا چھڑایا

الٰہی محروم رکھیو اس کو مدام لذات دوجہاں سےاسیر دام فراق کر مجھ کو جس نے میرا مزا چھڑایا

نہ دوستی کا اسے ملے پھل نہ کوئی مربوط ہووے اس سےکہ جس نے کر دشمنی خدایا جو ربط آپس میں تھا چھڑایا

عروس گیتی سمجھ کے اس کو ذلیل ہرگز نہ منہ لگاوےالٰہی عقد محبت اس سے یہ جس نے میرا بندھا چھڑایا

چھٹے گریبان اس کا گاہے نہ پنجۂ رنج سے خدایاکہ دامن وصل ہاتھ اپنے سے جس نے اس شوخ کا چھڑایا

الٰہی زندان غم سے پاوے نہ جیتے جی وہ کبھی رہائیکہ جس کے بہکائے سے اب اس نے دل اپنا ہم سے پھنسا چھڑایا

لہو جو مشتاق وصل کا تھا چھٹا نہ قدموں سے اس کے ہرگزاگرچہ دھو دھو کے اس نے کتنا بہ شکل رنگ حنا چھڑایا

کہے ہے جرأتؔ یہی بہ تکرار درد ہجراں سے ہاتھ مل ملالٰہی چھٹ جائیں اس کی نبضیں ملاپ جس نے مرا چھڑایا

— جرات قلندر بخش