11 اشعار

سب چلے تیرے آستاں کو چھوڑ

Sab chalay tere aastan ko chhor

سب چلے تیرے آستاں کو چھوڑبد زباں اب تو اس زباں کو چھوڑ

مت اٹھا یار تیرے کوچے میںآن بیٹھے ہیں دو جہاں کو چھوڑ

وقت سختی کے آہ جاتی ہےجان بھی جسم ناتواں کو چھوڑ

صحبت راست کب ہو کج سے برآرتیر آخر چلا کماں کو چھوڑ

دست بیداد باغباں سے آہہم چلے آخر آشیاں کو چھوڑ

باغ سے وہ پھرا تو مرغ چمنلگ چلے ساتھ گلستاں کو چھوڑ

ناتوانی سے مثل نقش قدمرہے ناچار کارواں کو چھوڑ

ہم نشیں کہہ تمام قصۂ عشقآج کل پر نہ داستاں کو چھوڑ

یہ مرا حال ہے جو وہ قاتلاٹھ گیا دم کے میہماں کو چھوڑ

جس طرح پھیر حلق پر خنجردے کوئی مرغ نیم جاں کو چھوڑ

کر جوانی پہ رحم جرأتؔ کیبس غم عشق اس جواں کو چھوڑ

— جرات قلندر بخش