9 اشعار

کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیا

Kuchh munh se dene keh woh bahaane se uth gaya

کچھ منہ سے دینے کہہ وہ بہانے سے اٹھ گیاحرف سخاوت آہ زمانے سے اٹھ گیا

ہے اس کے دیکھنے کی ہوس کیا غضب کہ آہجو تند خو ٹک آنکھ اٹھانے سے اٹھ گیا

پوچھی جو اس سے میں دل صد چاک کی خبرالجھا کے اپنی زلف وہ شانے سے اٹھ گیا

کہیو صبا جو ہووے گزر یار کی طرفدل سب طرف سے آپ کے جانے سے اٹھ گیا

پایا جو مضطرب مجھے محفل میں تو وہیںشرما کے کچھ وہ اپنے بیگانے سے اٹھ گیا

ہوتا تھا اپنے جانے سے جس کو قلق سو ہائےگھبرا کے آج کیا مرے آنے سے اٹھ گیا

ہمدم نہ مجھ کو قصۂ عیش و طرب سنامدت سے دل کچھ ایسے فسانے سے اٹھ گیا

جب تک تو آئے آئے کہ دنیا ہی سے کوئیلے جان تیرے دیر لگانے سے اٹھ گیا

جرأتؔ ہم اس زمین میں کہتے ہیں اور شعرہر چند جی سخن کے بڑھانے سے اٹھ گیا

— جرات قلندر بخش