9 اشعار

بہ چمن اب وہ کیا چاہے ہے مے نوش گزار

Ba chaman ab woh kya chahe hai mai nosh guzar

بہ چمن اب وہ کیا چاہے ہے مے نوش گزارجلد اے پیک صبا گل کے یہ کر گوش گزار

نہیں معلوم کہاں جاتے ہیں جوں نشۂ مےجدھر ان روزوں میں ہم کرتے ہیں مدہوش گزار

بزم میں مجھ کو جو دیکھا تو یہ جھنجھلا کے کہاایسی محفل میں کرے ہے مری پاپوش گزار

سرنگوں کوچۂ رسوائی میں ہیں آج تلکسو خرابی سے جو اس در پہ کیا دوش گزار

عاشق اس پردہ نشیں کے ہیں کہ گر سامنے سےکبھی گزرے ہے تو کرتا ہے وہ روپوش گزار

چند روزہ ہے یہ مے خانۂ ہستی یاں توعمر غفلت میں نہ اے بے خرد و ہوش گزار

آ پھنسا عشوہ و انداز و ادا میں یوں دلرہزنوں میں کرے جوں راہ فراموش گزار

ہم سفر ہیں تو یہ حسرت ہے کہ کیجے کوسوںاک سواری میں ہوئے اس سے ہم آغوش گزار

قدرداں کوئی سخن کا نہ رہا اے جرأتؔکنج تنہائی میں اوقات تو خاموش گزار

— جرات قلندر بخش