12 اشعار

وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیں

Wasl banne ka kuchh banao nahin

وصل بننے کا کچھ بناؤ نہیںواں لگا دل جہاں لگاؤ نہیں

پاؤں کیوں دابنے نہیں دیتےگر کسی کا تمہیں دباؤ نہیں

زخم دل کا علاج کیا کیجےقابل مرہم اپنا گھاؤ نہیں

ایسے دریا میں بہہ چلے ہیں کہ آہجس میں ٹاپو نہیں ہے ناؤ نہیں

ہے بہت جلوہ گاہ یار بلنددیکھیں کیا یاں سے کچھ دکھاؤ نہیں

بل بے تیری سجاوٹیں اللہکچھ قیامت ہے یہ بناؤ نہیں

دسترس واں ذرا نہیں اور ہائےدل میں کیا کیا ہمارے چاؤ نہیں

لے کے دل یوں کہے ہے چتون میںاب مری بزم میں تم آؤ نہیں

درد پنہاں سے جی ہی نکلے ہےکیا کہیں تم سے کچھ چھپاؤ نہیں

گر سفر کو سدھارے ہو تو آؤجا کے واں چھاؤنی تو چھاؤ نہیں

کیونکہ جرأتؔ لگائیں ہم لگاکہ فرشتے کا واں لگاؤ نہیں

اور تو اور چوری چوری سےبات کر لینے کا بھی داؤ نہیں

— جرات قلندر بخش