6 اشعار

چھیڑنے ہم کو یار آج آیا

Chherne hum ko yar aaj aaya

چھیڑنے ہم کو یار آج آیابارے کچھ چہل پر مزاج آیا

تخت شاہی کا کس کو بھاتا ہےخوش ہمیں فقر ہی کا تاج آیا

کشت دل فوج غم نے کی تاراجتس پہ تو مانگنے خراج آیا

تو نے کیا کیا اسے بتنگ کیالے کے تجھ تک جو احتیاج آیا

کی دوا درد دل کی بہتیریراس کوئی نہ پر علاج آیا

مر گیا کل ہی جرأتؔ بیمارتو عیادت کو اس کی آج آیا

— جرات قلندر بخش