14 اشعار

بہ صد آرزو جو وہ آیا تو یہ حجاب‌ عشق سے حال تھا

Ba sad aarzoo jo woh aaya to yeh hijaab-e-ishq se haal tha

بہ صد آرزو جو وہ آیا تو یہ حجاب‌ عشق سے حال تھاکہ ہزاروں دل میں تھیں حسرتیں اور اٹھانا آنکھ محال تھا

رہا شب جو ہم سے جدا کوئی تو کہے یہ واقعہ کیا کوئیشب ہجر تھی کہ بلا کوئی جسے دیکھتے ہی وصال تھا

رخ یار تا نہ پڑا نظر رہے ہم الم سے یہ نوحہ گرکہ ہمارے رنج و ملال پر تو ملال کو بھی ملال تھا

کرے کون اس سے برابری مہ و زہرہ سب کو تھی ہم سریدم صبح دیکھ ستم گری رخ مہر ذرہ مثال تھا

شب وصل دیکھ کے خواب میں میں پڑا تھا سخت عذاب میںتھے ہزار سوچ جواب میں عجب اس کا مجھ سے سوال تھا

مرے جوش اشک سے بہرہ ور ہوئے کل جہان کے بحر و برنہ برستی آج یہ چشم تر تو خدا نخواستہ کال تھا

جو نمود کرتے ہی آپ سے لگے بیٹھنے وہ شتاب سےتو یہ پوچھے کوئی حباب سے کہ پھلائے اپنے یہ گال تھا

ہوا میں بھی داخل کشتگاں تو عبث تو ہووے ہے سر گراںکہ مرے گلے کی طرف میاں ترے آب تیغ کا ڈھال تھا

دیا کھا کے آپ نے پان جو دل مبتلا ہوا سرخ رواسے سمجھا پیٹ کا بوجھ وہ جو تمہارے منہ کا اگال تھا

جو مریض تھا پڑا جاں بہ لب خبر اور کچھ نہیں اس کی ابمگر اتنا کہتے ہیں لوگ سب کہ بڑا یہ نیک خصال تھا

جو چمن سے دور قفس ہوا تو میں اور اسیر ہوس ہوایہ جو ظلم اب کے برس ہوا یہی قہر اگلے بھی سال تھا

نہیں چاہتا ہے اب آسماں کہ ہم اور وہ ہوں بہ یک مکاںکہیں آ گیا جو وہ شب کو یاں کہ بلانا جس کا محال تھا

تو یہ رنگ چنبر چرخ کا نظر آئے تھا مجھے برملاکبھی تھا سیہ کبھی زرد تھا کبھی سبز تھا کبھی لال تھا

نہ کسی نے قدر کی جرأتؔ اب کہے شعر گرچہ عجب عجبجو نہ ہوں گے ہم تو کہیں گے سب کہ بڑا یہ اہل کمال تھا

— جرات قلندر بخش