12 اشعار

تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہم

Tasavvur baandhte hain us ka jab wehshat ke maare hum

تصور باندھتے ہیں اس کا جب وحشت کے مارے ہمتو پھر کرتے ہیں آپ ہی آپ کیا کیا کچھ اشارے ہم

کہے ہے یوں دل مضطر سے اس بن جان غم دیدہچلو تم رفتہ رفتہ آتے ہیں پیچھے تمہارے ہم

کئی بار اس نے دیکھا آج چشم قہر سے ہم کوسزا وار عقوبت تو ہوئے اے بخت بارے ہم

نہ مانی دل نے اپنی اور نہ ہم نے بات ناصح کیہمیں کہہ کہہ کے ہارا وہ اسے کہہ کے ہارے ہم

وہ جب آئینہ دیکھے ہے تو کیا کیا مسکراتا ہےسمجھ کر یہ کہ یعنی ہیں قیامت پیارے پیارے ہم

ملا لطف سخن کیا خاک ہم کو اس کی محفل میںکہ چپ بیٹھے رہے جوں نقش دیوار اک کنارے ہم

ہوئے ہیں چاہنے والے تمہارے سیکڑوں پیدایہ سچ ہے جی کہ کس گنتی میں ہیں یاں اب بچارے ہم

کسی مہوش کے غم نے کر دیا نا طاقت ایسا ہیکہ چھٹتے دیکھتے ہیں اکثر آنکھوں آگے تارے ہم

اٹھا کر آنکھ تو تم دیکھ لو یاں کوئی دیکھے ہےذرا قربان ہونے دو ہمیں صدقے تمہارے ہم

کریں کیا آہ اور کس سے کہیں ہم اپنی بے چینیکہیں چین اب ترے ہاتھوں نہیں پاتے ہیں پیارے ہم

قرار اک جا نظر آتا نہیں ہے بے قراری میںگل بازی کی صورت پھرتے ہیں بس مارے مارے ہم

ہمیں کیا خطرۂ جاں ہے کہ ہم ہیں نام کو جرأتؔنہ ہوں پھر کیوں کہ میدان محبت میں اتارے ہم

— جرات قلندر بخش