17 اشعار

نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایا

Nah garmi rakhe koi us se khudaya

نہ گرمی رکھے کوئی اس سے خدایاشرارت سے جی جس نے میرا جلایا

نہ بے چین ہو کوئی اب اس کی خاطرمرا چاہنا جو نہ خاطر میں لایا

بہم دیکھ دو شخص ہو وہ بھی مضطراکیلا میں جس کے لیے تلملایا

پھرے جستجو میں نہ اب کوئی اس کیمجھے جس نے گلیوں میں برسوں پھرایا

نہ بھولے سے یاد اب کرے کوئی اس کومرا یاد کرنا بھی جس نے بھلایا

نہ خوش ہو اب اس پاس بیٹھے سے کوئیہمیں کر کے آزردہ جس نے اٹھایا

خریدار پیدا نہ ہو کوئی اس کاکہ دل بیچ کر ہم نے دکھ جس سے پایا

تحیر ہو دیکھ آئینہ اس کو جس نےہمیں کر کے حیراں نہ مکھڑا دکھایا

لگے لاگ اس سے کسی کی نہ یاربہماری لگی کو نہ جس نے بجھایا

کہوں داستاں میں گر اپنی اور اس کیتو حیران ہو سن کے اپنا پرایا

کہ پہلے کی اظہار خود اس نے الفتنہ آیا تو سو بار گھر سے بلایا

جتائیں وہ باتیں جنہیں سحر کہیےدکھایا وہ عالم کہ وحشی بنایا

رکھی بے تکلف ملاقات چندےبہ منت مجھے پاس پہروں بٹھایا

کسی کا نہ اک حرف خاطر میں گزرااسے گرچہ لوگوں نے کیا کیا پڑھایا

سو اب وہ جھلک تک دکھاتا نہیں ہےگیا میں جو گھر سے تو در تک نہ آیا

لگاوٹ یہ کچھ کر کے پھر کیا غضب ہےمرا لگ گیا دل تو پردہ لگایا

بہ تغییر بحر اور جرأتؔ غزل کہہکہ یہ طرفہ مضمون تو نے سنایا

— جرات قلندر بخش