11 اشعار

بیٹھے تو پاس ہیں پر آنکھ اٹھا سکتے نہیں

Baithe to paas hain par aankh utha sakte nahin

بیٹھے تو پاس ہیں پر آنکھ اٹھا سکتے نہیںجی لگا ہے پہ ابھی ہاتھ لگا سکتے نہیں

دور سے دیکھ وہ لب کاٹتے ہیں اپنے ہونٹھہے ابھی پاس ادب ہونٹھ ہلا سکتے نہیں

تکتے ہیں اس قد و رخسار کو حسرت سے اور آہبھینچ کر خوب سا چھاتی سے لگا سکتے نہیں

دل تو ان پاؤں پہ لوٹے ہے مرا وقت خرامشب کو دزدی سے بھی پر ان کو دبا سکتے نہیں

چور سے رات کھڑے رہتے ہیں اس در سے لگےپر جو مطلوب ہے وہ جنس چرا سکتے نہیں

ریجھتے ان کی اداؤں پہ ہیں کیا کیا لیکنمارے اندیشے کے گردن بھی ہلا سکتے نہیں

دیکھ رہتے ہیں وہ آئینۂ زانو اس کاپر کسی شکل سے زانو کو بھڑا سکتے نہیں

قاعدے کیا ہمیں معلوم نہیں الفت کےبے کم و کاست مگر ان کو پڑھا سکتے نہیں

چپکے تک رہتے ہیں رنگ اس کا بھبوکا سا ہمآہ پر دل کی لگی اپنی بجھا سکتے نہیں

کیا غضب ہے کہ وہی بولے تو بولے از خودہم انہیں کیوں کہ بلاویں کہ بلا سکتے نہیں

گرچہ ہم خانہ ہیں جرأتؔ پہ ہمارے ایسےبخت سوئے کہ کہیں ساتھ سلا سکتے نہیں

— جرات قلندر بخش