10 اشعار

بن ترے کیا کہیں کیا روگ ہمیں یار لگا

Ban tere kya kahein kya rog hamein yaar laga

بن ترے کیا کہیں کیا روگ ہمیں یار لگاڈر لگے نام لیے جس کا وہ آزار لگا

سب یہ کہتے ہیں مجھے تجھ سے جو دل یار لگاہائے کیا اس کو جوانی میں یہ آزار لگا

ہم دوانوں کا یہ ہے دشت جنوں میں رتبہکہ قدم رکھتے ہی آ پاؤں سے ہر خار لگا

کہیے کیوں کر نہ اسے بادشہ کشور حسنکہ جہاں جا کے وہ بیٹھا وہیں دربار لگا

قدر پھر اپنی ہو کیا اس کے خریداروں میںروز و شب جس کی گلی میں رہے بازار لگا

کون سا دن وہ کٹا مجھ پہ کہ اے تیغ فراقزخم اک تازہ مرے دل پہ نہ ہر بار لگا

دل میں اب اس کے جو لہر آئی ہے گھر جانے کیتو بھی رونے کی جھڑی دیدۂ خوں بار لگا

متصل تو جو مرا خون جگر پیتا ہےکیوں غم عشق یہ کیا تجھ کو مزے دار لگا

تیز دستیٔ جنوں آج ہے ایسی ہی کہ بسنہ رہا اپنے گریباں میں کوئی تار لگا

اس زمیں میں غزل اک اور بھی پڑھ اے جرأتؔخوب انداز کے اب کہنے تو اشعار لگا

— جرات قلندر بخش