11 اشعار

یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گا

Yaan hum ko jis ne maara maloom ho rahe ga

یاں ہم کو جس نے مارا معلوم ہو رہے گامحشر میں خوں ہمارا معلوم ہو رہے گا

گو پھول پھول کر اب تو دیکھتی ہے بلبلگلشن کا پر نظارا معلوم ہو رہے گا

جب بحر غم میں ڈوبا دے چھوڑ دست و پا کوآخر تجھے کنارا معلوم ہو رہے گا

اے صبر دم بہ دم اب درد و الم فزوں ہےجتنا ہے دل کا یارا معلوم ہو رہے گا

اے آفتاب محشر کھولوں ہوں داغ دل کاچمکا اگر یہ تارا معلوم ہو رہے گا

صد شعر عاشقوں کا ہونے لگا وفور ابسب حوصلہ تمہارا معلوم ہو رہے گا

نقش قدم سے آخر تیری گلی میں پیارےجس کا ہوا گزارا معلوم ہو رہے گا

افسوس راز دل کا جاسوس سن گئے ہیںقصہ اب اس کو سارا معلوم ہو رہے گا

پوشیدہ گو ہے تجھ پر احوال میرے دل کاہے یہ تو آشکارا معلوم ہو رہے گا

ناچار کو بہ کو اب تحقیق کرنے پھریےکچھ درد دل کا چارا معلوم ہو رہے گا

پنہاں ہے اب تو لیکن مرنے کے بعد جرأتؔدرد دروں ہمارا معلوم ہو رہے گا

— جرات قلندر بخش