12 اشعار

بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی بات

Bulbul sune na kyunke qafas mein chaman ki baat

بلبل سنے نہ کیونکہ قفس میں چمن کی باتآوارۂ وطن کو لگے خوش وطن کی بات

مت پوچھ حال اپنے تو بیمار عشق کاہونے لگی اب اس کے تو گور و کفن کی بات

ہے موسم بہار میں با صد زباں خموشغنچے نے کیا سنی تھی کسی کے دہن کی بات

عیش و طرب کا ذکر کروں کیا میں دوستومجھ غمزدہ سے پوچھئے رنج و محن کی بات

ناصح میں کیا کہوں کہ ہوا کس طرح سے چاکدست جنوں سے پوچھو مرے پیرہن کی بات

تھا عاقل زمانہ پہ دیوانہ ہو گیاجس شخص نے سنی مرے دیوانہ پن کی بات

سر دیجے راہ عشق میں پر منہ نہ موڑیئےپتھر کی سی لکیر ہے یہ کوہ کن کی بات

بزم چمن بھی اس سے خجل ہے بہار میںکیا پوچھنے ہے یار تری انجمن کی بات

یارو میں کیا کہوں کہ جلا کس طرح پتنگپوچھو زبان شمع سے اس کی لگن کی بات

شاید اسی کا ذکر ہو ہر رہ گزر میں میںسنتا ہوں گوش دل سے ہر اک مرد و زن کی بات

وہ شے نہیں ہے ہم میں کہ جس سے ملے وہ یارآتی ہے یوں تو ہم کو بھی ہر ایک فن کی بات

جرأتؔ خزاں کے آتے چمن میں رہا نہ کچھاک رہ گئی زباں پہ گل و یاسمن کی بات

— جرات قلندر بخش