10 اشعار

رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھا

Raat kya kya mujhe malaal na tha

رات کیا کیا مجھے ملال نہ تھاخواب کا تو کہیں خیال نہ تھا

آج کیا جانے کیا ہوا ہم کوکل بھی ایسا تو جی نڈھال نہ تھا

بولے سب دیکھ میری جاں کاوییہ تو فرہاد کا بھی حال نہ تھا

جب تلک ہم نہ چاہتے تھے تجھےتب تک ایسا ترا جمال نہ تھا

اب تو دل لگ گیا ہے کیوں کہ نہ آئیںپہلے کہتے تو کچھ محال نہ تھا

ٹل گیا دیکھ یوں ترا ابروکہ گویا چرخ پر ہلال نہ تھا

ٹک نہ ٹھہرا مرے وہ پاس آ کرکچھ تماشا تھا یہ وصال نہ تھا

دیکھ شب اپنے رشک لیلیٰ کودنگ تھا میں تو مجھ میں حال نہ تھا

سن کے بولا تمام قصۂ قیسعشق کا اس کو بھی کمال نہ تھا

اتنا رویا لہو تو کب جرأتؔابھی دامن ترا تو لال نہ تھا

— جرات قلندر بخش