6 اشعار

ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیں

Hum kab az-khud tere ghar yaar chale aate hain

ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیںرہ نہیں سکتے تو ناچار چلے آتے ہیں

لے خبر اس کی شتابی سے کہ عاشق کو ترےغش پہ غش شوخ ستم گار چلے آتے ہیں

میں تو حیراں ہوں مطب ہے کہ در یار ہے یہیاں تو بیمار پہ بیمار چلے آتے ہیں

گھر میں گھبراتے ہیں بے یار تو ہم وحشی سےسر برہنہ سر بازار چلے آتے ہیں

کھڑے رہ سکتے نہیں در پہ تو حیران سے واںبیٹھ کر ہم پس دیوار چلے آتے ہیں

کس کے نالوں کی یہ آندھی ہے کہ شکل پر کاہآج اڑتے ہوئے کہسار چلے آتے ہیں

— جرات قلندر بخش