12 اشعار

دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گا

Dood-e-atish ki tarah yan se na tal jaoon ga

دود آتش کی طرح یاں سے نہ ٹل جاؤں گاشمع ساں محفل جاناں ہی میں جل جاؤں گا

دور سے بھی اسے دیکھوں تو یہ چتون میں کہےآ کے دیدے ابھی تلووں تلے مل جاؤں گا

دل مضطر یہ کہے ہے وہیں لے چل ورنہتوڑ چھاتی کے کواڑوں کو نکل جاؤں گا

میں ہوں خورشید سر کوہ یقیں ہے کہ وہ ماہآئے گا بام پہ تب جب کہ میں ڈھل جاؤں گا

آج بھی کوئی نہ لے جائے گا واں مجھ کو تو بسکل نہیں ہے مجھے میں جی ہی سے کل جاؤں گا

واں سے اٹھتا ہوں تو کہتا ہے یہ پائے رفتارجب زمیں پر تو رکھے گا میں پھسل جاؤں گا

بہ خدا حسن بتاں کا یہی سب سے ہے کلاموہ چھلاوا ہوں کہ تم سب کو میں چھل جاؤں گا

آ کے برسوں میں وہ مجھ پاس یہ شب کہنے لگےیاں ٹھہرنے میں بہت سے ہیں خلل جاؤں گا

تیغہ قاتل کا کہے ہے کہ دوالی بندوموٹھ کی طرح سے تم سب پہ میں چل جاؤں گا

گو مزاج اس کا یہ بدلا کہ کہے ہے مجھے یوںدیکھو تم آئے تو میں گھر سے نکل جاؤں گا

پر رہا جائے گا کب ہے مری حالت تغییریوں نہ جاؤں گا تو میں بھیس بدل جاؤں گا

جرأتؔ اشعار جنوں خیز کہہ اب اور کہ میںلے کے یہ تربت سودا پہ غزل جاؤں گا

— جرات قلندر بخش