12 اشعار

در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنا

Dar tak ab chhor diya ghar se nikal kar aana

در تک اب چھوڑ دیا گھر سے نکل کر آنایا وہ راتوں کو سدا بھیس بدل کر آنا

ہمدمو یہ کوئی رونا ہے کہ طوفان ہے آہدیکھیو چشم سے دریا کا ابل کر آنا

قصد جب جانے کا کرتا ہوں میں اس شوخ کے پاستیغ ابرو یہ کہے ہے کہ سنبھل کر آنا

حاصل اس کوچے میں جانے سے ہمیں ہے اور کیاالٹے گھر اپنے مگر خاک میں رل کر آنا

واں سے اول دل بے تاب تو کب آتا ہےاور آنا بھی تو سو جا پہ مچل کر آنا

ہمدمو میری سفارش کو تو جاتے ہو ولےکہیں واں جا کے نہ کچھ اور خلل کر آنا

ڈوبے یوں بحر محبت میں کہ اب جیتے جیاپنا دشوار ہے اوپر کو اچھل کر آنا

کوئے قاتل میں دم نزع کوئی لے جاؤجا کے اس جا ہمیں عقدہ ہے یہ حل کر آنا

اس کا بے وجہ نہیں ہے یہ چمن سے باہرگل مرے سامنے ہاتھوں میں مسل کر آنا

بزم خوباں میں اگرچہ کوئی پرچائے ہزارپر ترے پاس ہمیں واں سے بھی ٹل کر آنا

جی چلا تن سے مرے جلد ز راہ اشفاقگھر سے دو چار قدم ایسے میں چل کر آنا

جرأتؔ اس کی کہوں کیا تجھ سے طرح داری میںجانا جب اٹھ کے تب اک روپ بدل کر آنا

— جرات قلندر بخش