12 اشعار

دل کو اے عشق سوئے زلف سیہ فام نہ بھیج

Dil ko ae ishq sooye zulf-e-siyah fam na bhej

دل کو اے عشق سوئے زلف سیہ فام نہ بھیجرہزنوں میں تو مسافر کو سر شام نہ بھیج

دیکھ ہو جاؤں گا غیروں کے گلے کا میں ہارہار پھولوں کے تو اے شوخ گل اندام نہ بھیج

بھر نظر صورت گل دیکھ تو لیں اے بے دردہائے صیاد ابھی ہم کو تہ دام نہ بھیج

جب وہ بھیجے ہے مجھے مے تو کہیں ہیں یوں غیریہ بہک جائے گا بس اور اسے جام نہ بھیج

بھیجوں اس پاس جو قاصد کو دوبارہ تو کہےباز آیا، نہیں لینے کا میں انعام نہ بھیج

کوچۂ یار میں پہنچے ہیں تو بس رہنے دےجیتے جی یاں سے کہیں گردش ایام نہ بھیج

دم بہ دم بھیجے ہے قلیاں ہی کو کیا منہ سے لگالب سے بھی لب کو ملا بوسہ بہ پیغام نہ بھیج

بعد مدت کے تجھے پایا ہے تنہا بخداآج تو کام کو یاں سے بت خودکام نہ بھیج

دے کبھی بوسۂ چشم و لب جاں بخش بھی جاںصرف سوغات ہمیں بوسہ بہ پیغام نہ بھیج

گالیاں تو ہیں محبت کی عبارت پیارےکب میں کہتا ہوں کہ لکھ کر مجھے دشنام نہ بھیج

پر یہ دھڑکا ہے کہ جاوے نہ کہیں خط پکڑاکر کے سر نامے پہ تحریر مرا نام نہ بھیج

جرأتؔ اب تجھ سے وہ روٹھا تو منا کیونکہ میں لاؤںتو ہی پھر دینے لگے گا مجھے الزام نہ بھیج

— جرات قلندر بخش