8 اشعار

درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوں

Dard apna main isi taur jata rehta hoon

درد اپنا میں اسی طور جتا رہتا ہوںحسب حال اس کو کئی شعر سنا رہتا ہوں

اک ہی جا رہنے کا ہے گھر پہ اسی گھر میں آہدل یہ رہتا ہے جدا اور میں جدا رہتا ہوں

بات میں کس کی سنوں آہ کہ اے مرغ چمنشور میں اپنے ہی نالوں کے سدا رہتا ہوں

بارے اتنا ہے اثر درد کے افسانے میںایک دو شخص کو ہر روز رلا رہتا ہوں

بزم خوباں میں یہ سر گو کٹے رونے پہ مراشمع ساں اشک پر آنکھوں سے بہا رہتا ہوں

آہ و نالہ میں اگر کچھ بھی اثر ہے میرےتو میں اس شوخ کو اک روز بلا رہتا ہوں

حسن اور عشق کا کیا ذکر کروں مت پوچھوان دنوں زیست سے بھی اپنی خفا رہتا ہوں

دل لگا جب سے مرا آہ تبھی سے جرأتؔکتنی ہی آفتیں ہر روز اٹھا رہتا ہوں

— جرات قلندر بخش