9 اشعار

کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسرا

Kab koi tujh sa aaina roo yaan hai doosra

کب کوئی تجھ سا آئینہ رو یاں ہے دوسراہے تو ترا ہی عکس نمایاں ہے دوسرا

پوچھ اس کی مت خبر جسے ناصح سیے تھا تووہ دھجیاں اڑا یہ گریباں ہے دوسرا

شکل ان کی یہ ہے جو کہ ہیں محو جمال یارششدر کھڑا ہے ایک تو حیراں ہے دوسرا

رخ اس کا دیکھیو شب مہتاب میں کوئیگویا زمیں پہ یہ مہ تاباں ہے دوسرا

کیا دل جگر کی کہیے تمنائے وصل میںحسرت بھرا ہے ایک پر ارماں ہے دوسرا

وادیٔ عشق میں ہمیں برسوں یوں ہی کٹےاک دشت طے کیا کہ بیاباں ہے دوسرا

تیرے خرام ناز کے صدقے کہ کب کوئیایسا چمن میں سرو خراماں ہے دوسرا

غم خوار و مونس اب ترے بیمار کے ہیں یوںتسکین ایک دے تو ہراساں ہے دوسرا

جرأتؔ غزل پڑھ اور اک ایسی کہ سب کہیںکب اس طرح کا کوئی غزل خواں ہے دوسرا

— جرات قلندر بخش