12 اشعار

دیکھیو اس کی ذرا آنکھ دکھانے کا مزا

Dekhiyo us ki zara aankh dikhane ka maza

دیکھیو اس کی ذرا آنکھ دکھانے کا مزاچتونوں میں ہے بھرا سارے زمانے کا مزا

کس مزے سے ہے عیاں دزدیٔ دل ہے ظالملوں چرا کیونکہ ترے آنکھ چرانے کا مزا

لذت وصل کوئی پوچھے تو پی جاتا ہوںکہہ کے ہونٹوں ہی میں ہونٹوں کے ملانے کا مزا

کیا ترے میکش الفت کا یہ کیفیت ہےدرد دل کر کے بیاں رونے رلانے کا مزا

دست بر دل ہو اٹھاتا ہوں عجب لذت دردیاد کر ہجر میں وہ ہاتھ بڑھانے کا مزا

جو خموشی میں ہے لذت نہیں گویائی میںبے خودی سا ہے کہاں آپ میں آنے کا مزا

اس کے لڑنے کے بھی صدقے کہ نظر آتا ہےعین رنجش میں عجب آنکھ لڑانے کا مزا

خواب و خور سے ترے بیمار کو کیا کام کہ ہےلذت خواب نہ کچھ اس کو نہ کھانے کا مزا

یاد آتا ہے تو جاتا ہوں خدا جانے کہاںوہ لگاوٹ کی نگاہوں میں بلانے کا مزا

کیا کہوں وصل کی شب لے کے بلائیں اس کیکیا اٹھاتا ہوں میں زانو پہ بٹھانے کا مزا

میں تو پھر آپ میں رہتا نہیں دل سے پوچھوآگے پھر بھینچ کے چھاتی سے لگانے کا مزا

در پہ اس پردہ نشیں کے ہو تو با صوت بلندشعر اس وقت ہے جرأتؔ سے پڑھانے کا مزا

— جرات قلندر بخش