12 اشعار

سنو بات اس کی الفت کا بڑھانا اس کو کہتے ہیں

Suno baat us ki ulfat ka barhana us ko kehte hain

سنو بات اس کی الفت کا بڑھانا اس کو کہتے ہیںکہا شب خواب میں آ کر کہ آنا اس کو کہتے ہیں

قدم وادیٔ وحشت ناک الفت میں رکھا ہم نےہزار آفات کا سر پر اٹھانا اس کو کہتے ہیں

ہماری بات کاٹی غیر کی تائید کی اس نےگھٹانا اس کو کہتے ہیں بڑھانا اس کو کہتے ہیں

جو روٹھے ہم تو بولے بے دلی سے تم کہ آ مل جاادھر کو دیکھیو کیوں جی منانا اس کو کہتے ہیں

دل مضطر کے باعث روز و شب رہتے ہیں بس لرزاںدر و دیوار خانہ تلملانا اس کو کہتے ہیں

وہ دشمن اپنا سمجھے ہے بہ دل میں دوست ہوں جس کاکہوں کیا اور پر الٹا زمانہ اس کو کہتے ہیں

یہ بولے دیکھ سب تصویر اس کی اور مری یکجاپری رو اس کو کہتے ہیں دوانہ اس کو کہتے ہیں

کیا ہے شیفتہ عالم کو اپنا اس پری رو نےدوانہ اک جہاں کو کر دکھانا اس کو کہتے ہیں

یہ چشم گوہر افشاں حضرت دل جلوہ فرما ہیںنکل گھر سے در دولت پہ آنا اس کو کہتے ہیں

جو گلشن میں کسی نے دیکھ کھلنا غنچۂ گل کاکہا بس آ کے یاں لذت اٹھانا اس کو کہتے ہیں

تبسم کر کے یوں مجھ سے کہا اس شوخ نے او بےادھر کو دیکھ ادا سے مسکرانا اس کو کہتے ہیں

غزل اور اس زمیں میں پڑھیے وہ جرأتؔ کہ سن جس کوکہیں عاشق کلام عاشقانہ اس کو کہتے ہیں

— جرات قلندر بخش