12 اشعار

گرمی مرے کیوں نہ ہو سخن میں

Garmi mere kyun na ho sukhan mein

گرمی مرے کیوں نہ ہو سخن میںاک آگ سی پھنک رہی ہے تن میں

وہ رشک گل آئے گر پس از مرگپھولا نہ سماؤں میں کفن میں

ہشیاری میں کب ہے ایسی لذتجو کچھ ہے مزا دوانہ پن میں

خواری کا مری وہ لطف سمجھےکامل ہو جو عاشقی کے فن میں

گردش جنہیں مثل آسیا ہےدائم انہیں ہے سفر وطن میں

ناصح میں رفو کو تب کہوں آہحالت ہو جو کچھ بھی پیرہن میں

اے باد خزاں وہ کیا ہوئے گلخاک اڑنے لگی ہے کیوں چمن میں

بیتابیٔ دل کرے ہے رسواکیا جائیے اس کی انجمن میں

ہے ترا ہی دھیان اور کچھ ابباقی نہیں تیرے خستہ تن میں

جلد اس کو دکھا دے شکل اے جاںرہ جائے گی ورنہ من کی من میں

گھر میں جو نہیں وہ یار جرأتؔگھبرائے ہے اپنی جان تن میں

ہے جی میں کہ خانہ کر کے ویراںجا بیٹھیے اک اجاڑ بن میں

— جرات قلندر بخش