11 اشعار

گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیا

Gar kahoon ghair se phir rabt hua tujh ko kya

گر کہوں غیر سے پھر ربط ہوا تجھ کو کیاکیا برا مان کے کہتا ہے بھلا تجھ کو کیا

سر اٹھانا تجھے بالیں سے جو دشوار ہے ابکیوں دلا بیٹھے بٹھائے یہ ہوا تجھ کو کیا

پوچھوں رنجش کا سبب اس سے تو جھنجھلا کے کہے''گر خفا ہوں تو میں ہوں آپ کو، جا تجھ کو کیا''

ہم اسیران قفس کیا کہیں خاموش ہیں کیوںراہ لے اپنی چل اے باد صبا تجھ کو کیا

گر کیا اس سے جدا مجھ کو تو کہہ دے یہ فلکمیرے اور اس کے نہ ملنے سے ملا تجھ کو کیا

ہاتھ اٹھاتا نہیں گر عشق سے میں اے ناصحتو نصیحت سے مری ہاتھ اٹھا تجھ کو کیا

گر کہو نام خدا لگتے ہو تم کیا ہی بھلےتو یہ کہتا ہے ''بھلا ہوں تو بھلا، تجھ کو کیا''

کیوں دلا بستر غم پر ہے تو خاموش پڑاکچھ تو کہہ مجھ سے کسی نے یہ کہا تجھ کو کیا

اب وہ موقوف ہوا نامہ و پیغام بھی آہحرف غیروں کا اثر کر ہی گیا تجھ کو کیا

میرے ملنے سے کیا منع کسی نے جو تجھےتو نے اس بات کو سن کر نہ کہا تجھ کو کیا

پیک اشک آنکھوں سے چل نکلے جو خط پڑھتے ہیجرأتؔ اب کچھ تو بتا اس نے لکھا تجھ کو کیا

— جرات قلندر بخش