12 اشعار

کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کا

Kyun na hoon hairaan teri har baat ka

کیوں نہ ہوں حیراں تری ہر بات کاحسن مرقع ہے طلسمات کا

روؤں تو خوش ہو کے پیے ہے وہ مےسمجھے ہے موسم اسے برسات کا

اٹھتی جوانی جو ہے تو دن بہ دناور ہی عالم ہے کچھ اس گات کا

گھر میں بلایا ہے تو کچھ منہ سے دوسیکھو یہ ڈھب ہم سے مدارات کا

شیخ جواں ہوگا تو پی دیکھ اسےشیشے میں پانی ہے کرامات کا

ہم نہ ملیں تم سے تو نکلے ہے جاںاور تمہیں عالم ہے مساوات کا

اس نے کی اب کم سخنی اختیارجس کو مزہ تھا مری ہر بات کا

آنکھ بھی ملتی ہے تو نا آشنااب وہ کہاں لطف اشارات کا

رونے کی جا ہے سن اسے ہم نشیںتو تو ہے محرم مرے اوقات کا

حکم ہوا رات کو آؤ نہ یاںدن کو رکھو طور ملاقات کا

دل کے اٹکتے ہی ہوا ہے ستمفرق ملاقات میں دن رات کا

بات نئی سوجھے ہے جرأتؔ تجھےمیں تو ہوں عاشق تری اس بات کا

— جرات قلندر بخش