11 اشعار

غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپنا

Gham ro ro ke kehta hoon kuchh us se agar apna

غم رو رو کے کہتا ہوں کچھ اس سے اگر اپناتو ہنس کے وہ بولے ہے ''میاں فکر کر اپنا''

رونے سے ترے کیا کہیں اے دیدۂ خوں باریہ خاک میں ملتا ہے دل اپنا جگر اپنا

گر بیٹھتے ہیں محفل خوباں میں ہم اس بنسر زانو سے اٹھتا نہیں دو دو پہر اپنا

لانا ہے تو ہمدم اسے لا جلد کہ ہم کواحوال نظر آئے ہے نوع دگر اپنا

باتوں سے کٹے کس کی بھلا راہ ہماریغربت کے سوا کوئی نہیں ہم سفر اپنا

عالم میں ہے گھر گھر خوشی و عیش پر اس بنماتم کدہ ہم کو نظر آتا ہے گھر اپنا

یا آنکھوں سے اک آن نہ ہوتا تھا وہ اوجھلیا جلوہ دکھاتا نہیں اب اک نظر اپنا

ہر بات کا بہتر ہے چھپانا ہی کہ یہ بھیہے عیب کرے کوئی جو ظاہر ہنر اپنا

گر رو بہ رو اس کے کسی غم خوار کو چپکےکچھ حال سناتا ہوں میں با چشم تر اپنا

تو کیا کہوں کہتا ہے عجب شکل سے مجھ کوکچھ ہونٹوں ہی ہونٹوں میں وہ منہ پھیر کر اپنا

کیا کیا اسے دیکھ آتی ہے جرأتؔ ہمیں حسرتمایوس جو پھر آتا ہے پیغام بر اپنا

— جرات قلندر بخش