14 اشعار

شب وصل دیکھی جو خواب میں تو سحر کو سینہ فگار تھا

Shab-e-vasl dekhi jo khwaab mein to sahar ko seena figaar tha

شب وصل دیکھی جو خواب میں تو سحر کو سینہ فگار تھایہی بس خیال تھا دم بہ دم کہ ابھی تو پاس وہ یار تھا

جو نہ تھا وہ غیرت گلستاں تو کروں اب اس کا میں کیا بیاںکہ الم جدائی کا ہر زماں مرے ایک دل پہ ہزار تھا

شب ہجر کے کہیں کیا الم نظر آئے صبح کو بہتے یمکہ بہ جوش بارش ابر غم پہ بندھا سرشک کا تار تھا

تپ غم سے تھا جو جلا بلا مرے سینے میں دل مبتلاسو دھواں ہو یوں وہ ہوا ہوا کہ نہ شعلہ تھا نہ شرار تھا

کبھی دست زلف سے تھے بہم کبھی رخ کے لیتے تھے بوسے ہمشب و روز اب تو ہے درد و غم کبھی ووں بھی لیل و نہار تھا

جسے یاد اپنی لگائیے اسے صاف دل سے بھلائیےٹک ادھر تو آنکھ ملائیے یہی ہم سے قول و قرار تھا

شب ہجر اب یہ ستائے ہے کہ خزان مرگ دکھائے ہےوہ رخ اب کہاں نظر آئے ہے کہ جو رشک صبح بہار تھا

مجھے شب جو نشۂ غم چڑھا تو پھرا کیا میں کھڑا کھڑارہا غش میں صبح کو جو پڑا اسی کیف کا یہ اتار تھا

ہوئی حیرت اب جو دو چند یاں کروں اور وجہ میں کیا بیاںرخ یار صبح کو مہر ساں مگر آئنے سے دو چار تھا

مجھے ایک عاشق خستہ کی کہیں کل جو قبر نظر پڑینہ کسی سے کوئی لگائے جی یہ کھدا بہ لوح مزار تھا

دم قتل کوئی جو بول اٹھا تو خجل ہو کیا وہ خفا ہوااسے تم نے ذبح عبث کیا یہ تمہارا شکر گزار تھا

کوئی ناؤ بحر میں تھی رواں کئی اس میں بیٹھے تھے مہو شاںکہیں اس گروہ کے درمیاں در ناز بھی وہ سوار تھا

تو بہ موج پرتو ماہ سا کہو اضطراب میں دل کا کیاکبھی پار تھا کبھی وار تھا کبھی وار تھا کبھی پار تھا

غزل اور قافیے کو بدل میں سناؤں یاروں کو بر محلہوا مختصر نہ بہ یک غزل کہ بڑا فسانۂ یار تھا

— جرات قلندر بخش