12 اشعار

جو روئیں درد دل سے تلملا کر

Jo roein dard-e-dil se talmala kar

جو روئیں درد دل سے تلملا کرتو وہ ہنستا ہے کیا کیا کھلکھلا کر

یہی دیکھا کہ اٹھوائے گئے بسجو دیکھا ٹک ادھر کو آنکھ اٹھا کر

بھلا دیکھیں یہ کن آنکھوں سے کیوں جیکسی کو دیکھنا ہم کو دکھا کر

کھڑا رہنے نہ دیں وو اب کہ جو شخصاٹھاتے تھے مزے ہم کو بٹھا کر

گیا وو دل بھی پہلو سے کہ جس کوکبھی روتے تھے چھاتی سے لگا کر

چلی جاتی ہے تو اے عمر رفتہیہ ہم کو کس مصیبت میں پھنسا کر

خط آیا واں سے ایسا جس سے اپنانوشتہ خوب سمجھے ہم پڑھا کر

ابھی گھر سے نہیں نکلا وہ تس پرچلا گھر بار اک عالم لٹا کر

دیا دھڑکا اسے کچھ وصل میں ہائےبگاڑی بات گردوں نے بنا کر

محبت ان دنو جو گھٹ گئی واںتو کچھ پاتے نہیں اس پاس جا کر

مگر ہم شوق کے غلبے سے ہر بارخجل ہوتے ہیں ہاتھ اپنا بڑھا کر

نہیں منہ سے نکلتی اس کے کچھ باتکسی نے کیا کہا جرأتؔ سے آ کر

— جرات قلندر بخش