4 اشعار

اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں یار کہ تو

Itna batla mujhe harjai hoon main yar keh tu

اتنا بتلا مجھے ہرجائی ہوں میں یار کہ تومیں ہر اک شخص سے رکھتا ہوں سروکار کہ تو

کم ثباتی مری ہر دم ہے مخاطب بہ حبابدیکھیں تو پہلے ہم اس بحر سے ہوں پار کہ تو

ناتوانی مری گلشن میں یہ ہی بحثے ہےدیکھیں اے نکہت گل ہم ہیں سبک بار کہ تو

دوستی کر کے جو دشمن ہوا تو جرأتؔ کابے وفا وہ ہے پھر اے شوخ ستم گار کہ تو

— جرات قلندر بخش