7 اشعار

جگر خوں ہو کے باہر دیدۂ گریان آوے گا

Jigar khoon ho ke bahar deeda-e-giryan aaway ga

جگر خوں ہو کے باہر دیدۂ گریان آوے گایہی رونا رہا تو آج کل طوفان آوے گا

خبر آتے ہی کیا پوچھے ہے ظالم بیٹھ جا یک دمحقیقت سب کہوں گا مجھ میں جب اوسان آوے گا

نہ ہے اب خاک افشانی نہ حیرانی نہ عریانیجنوں گر آ گیا تو لے کے سب سامان آوے گا

پڑھوں گا پیچھے نامہ میں خدا کے واسطے قاصدیہ کہہ اول کہ یاں تک وہ کسی عنوان آوے گا

نہ جا اے جان ٹک تو اور بھی اک رات اس تن سےسنا ہے کل کے دن وہ گھر مرے مہمان آوے گا

کسی کی قدر جیتے جی نہیں معلوم ہوتی ہےکرے ہے قتل پر پیچھے تجھے ارمان آوے گا

گلی میں اس بت خوں خوار کی جرأتؔ چلا تو ہےولیکن واں سے خوں میں دیکھنا افشان آوے گا

— جرات قلندر بخش