12 اشعار

یاد کر وہ حسن سبز اور انکھڑیاں متوالیاں

Yaad kar woh husn-e-sabz aur ankharian matwaliyan

یاد کر وہ حسن سبز اور انکھڑیاں متوالیاںکاٹتے ہیں رو ہی رو ساون کی راتیں کالیاں

شب تصور باندھ کر اس جنبش مژگاں کا واہخود بخود کس کس مزے سے ہم نے چھڑیاں کھا لیاں

دیکھیں کیا ان کی لچک اس ساعد نازک بغیرکھینچتی ہیں کیوں ہمیں کانٹوں میں گل کی ڈالیاں

کچھ نہ کچھ کر بیٹھتا ہوں بات اس کے بر خلافتا کسی صورت وہ دے جھنجھلا کے مجھ کو گالیاں

مہ اسیر ہالہ اس کا دیکھ بالا کیوں نہ ہوخندہ زن ہوں مہر پر جس کی جڑاؤ بالیاں

شب کو جو اس کا تصور بندھ گیا تو ہم نے بساس کے مکھڑے کی بلائیں صبح تک کیا کیا لیاں

وقت اظہار وفا محفل میں اس کی جس سے آنکھمل گئی تو بس وہ سب باتیں اسی پر ڈھالیاں

برگ گل ان کو کہوں یا پارۂ یاقوت واہدیکھیو بن پان کھائے ان لبوں کی لالیاں

کوچۂ قاتل کو گر مسلخ کہوں تو ہے بجاجب نہ تب دیکھو تو بہتی ہیں لہو کی نالیاں

خون دل آنکھوں میں بھر آتا ہے جب آتی ہے یادوہ مئے گل رنگ کی بھر بھر کے دینی پیالیاں

تاک جھانک اس کی کہوں کیا میں کہ طفلی میں بھی تھیںاس کے ہاتھوں گھر کی دیواروں میں ہر سو جالیاں

کاش جرأتؔ وصل کا دن ہووے جلدی سے نصیبہجر کی تو کھائے جاتی ہیں یہ راتیں کالیاں

— جرات قلندر بخش