8 اشعار

جس کے طالب ہیں وہ مطلوب کہیں بیٹھ رہا

Jis ke taalib hain woh matloob kahin baith raha

جس کے طالب ہیں وہ مطلوب کہیں بیٹھ رہامنتظر ہم کو بٹھا خوب کہیں بیٹھ رہا

بس کہ لکھی تھی میں حالت دل گم گشتہ کیکھو کے قاصد مرا مکتوب کہیں بیٹھ رہا

دیکھیں کیا آنکھ اٹھا کر کہ ہمیں تو ناحقآنکھ دکھلا کے وہ محبوب کہیں بیٹھ رہا

شام سے جیسے نہاں مہر ہو سو وصل کی راتمنہ چھپا کر وہ اس اسلوب کہیں بیٹھ رہا

ہے مری خانہ نشینی سے یہ گھر گھر مذکورخیل عشاق کا سرکوب کہیں بیٹھ رہا

جانا میں اس کا نہ آنا کہ سمجھ کر وہ شوخبیٹھنے کو مرے معیوب کہیں بیٹھ رہا

بود و باش اپنی کہیں کیا کہ اب اس بن یوں ہےجس طرح سے کوئی مجذوب کہیں بیٹھ رہا

اول عشق میں صورت یہ بنی جرأتؔ کیہو کے آخر کو وہ محجوب کہیں بیٹھ رہا

— جرات قلندر بخش