12 اشعار

رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھا

Raat jab tak mere pehlu mein woh dil daar na tha

رات جب تک مرے پہلو میں وہ دل دار نہ تھادل کو مجھ سے مجھے کچھ دل سے سروکار نہ تھا

گرد اس کوچے کے کس دن یہ گنہ گار نہ تھاواے حسرت کہ کوئی رخنہ بہ دیوار نہ تھا

کل تو بیمار کو تھا تیرے نہ بستر پہ قرارآج بستر تھا فقط اور وہ بیمار نہ تھا

شکر اے باد فنا جوں شجر سوختہ میںتھا تو گلشن میں ولے قابل گل زار نہ تھا

نہیں تل دھرنے کی جاگہ جو بہ افزونیٔ حسندیکھا شب اس کو تو اک خال بہ رخسار نہ تھا

رات کیا بات تھی بتلا ترے صدقے جاؤںآہیں بھرنا وہ ترا خالی از اسرار نہ تھا

دل کو دھر نوک سناں پر وہ یہ بولا ہنس کےہم نے منصور کو دیکھا بہ سر دار نہ تھا

بحث میں چشم تر و ابر کی کل تھا جو سماںکبھی اس شکل سے رونے کا بندھا تار نہ تھا

ذبح ہم سامنے ہوتے ہی ہوئے قاتل کےباوجودیکہ کوئی ہاتھ میں ہتھیار نہ تھا

بعد مردن مرے تابوت پہ سب روتے تھےچشم پر آب مگر اک وہ ستم گار نہ تھا

لیک کیا منہ کو چھپاتا تھا جو کہتے تھے یہ لوگاس کو ظاہر میں تو مرنے کا کچھ آزار نہ تھا

طبع کہہ اور غزل، ہے یہ نظیریؔ کا جوابریختہ یہ جو پڑھا قابل اظہار نہ تھا

— جرات قلندر بخش