12 اشعار

سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیا

Sach to yeh hai be-jagah rabt un dinon paida kiya

سچ تو یہ ہے بے جگہ ربط ان دنوں پیدا کیاسوچ ہے ہر دم یہی ہم کو کہ ہم نے کیا کیا

وہ گیا اٹھ کر جدھر کو میں ادھر حیران سااس کے جانے پر بھی کتنی دیر تک دیکھا کیا

میری اور اس شوخ کی صاحب سلامت جو ہوئیصبر و طاقت نے کہا لو ہم نے تو مجرا کیا

سیر گل کرتا تھا وہ اور آہ بیتابی سے میںہر طرف گلشن میں جوں آب رواں دوڑا کیا

جب تلک کرتے رہے مذکورہ اس کا مجھ سے لوگجی میں کچھ سوچا کیا میں اور دل دھڑکا کیا

درد دل کہنا مرا شاید کہ اس نے سن لیاورنہ کیوں مجھ کو دھراتا ہے بھلا اچھا کیا

دم بہ دم حسرت سے دیکھوں کیوں نہ سوئے چرخ میںاس نے اوروں کا کیا اس کو ہمیں جس کا کیا

دل ملے پر بھی ملاپ ایسی جگہ ہوتے رہےجو ادھر تڑپا کیے ہم وہ ادھر تڑپا کیا

مل گئے تھے ایک بار اس کے جو میرے لب سے لبعمر بھر ہونٹوں پہ اپنے میں زباں پھیرا کیا

بس کہ ہے وہ شہرۂ آفاق اس کے واسطےیہ دل دیوانہ کس کس شخص سے جھگڑا کیا

سوزش دل کیا کہوں میں جب تلک جیتا رہاایک انگارا سا پہلو میں مرے دہکا کیا

عشق بازی میں کہا جرأتؔ کو سب نے دیکھ کریہ عزیز اپنی ہمیشہ جان پر کھیلا کیا

— جرات قلندر بخش