12 اشعار

کب بیٹھتے ہیں چین سے ایذا اٹھائے بن

Kab baithe hain chain se eeza uthaaye bin

کب بیٹھتے ہیں چین سے ایذا اٹھائے بنلگتا نہیں ہے جی کہیں لگا لگائے بن

جب تک نہ بے قرار ہوں پڑتا نہیں قرارآتا نہیں ہے چین ہمیں تلملائے بن

بے آہ و نالہ منہ سے نکلتی نہیں ہے باتحیران بیٹھے رہتے ہیں آنسو بہائے بن

زنداں لگے ہے گھر جو کسی کا نہ ہوں اسیرآتے نہیں بہ خود کہیں ہم آئے جائے بن

دیوانے گر نہ ہوں تو پری رو نہ دیکھیں سیربگڑے ہے بات حال پریشاں بنائے بن

جنبش نہ دست و پا میں ہو بے شورش جنوںافسردہ طبع رہتے ہیں دھومیں مچائے بن

گر ہو نہ درد عشق تو بے درد ہم کہائیںکچھ لطف گفتگو ہی نہیں ہائے وائے بن

کیا جوش طبع ہو نہ مئے عشق گر پئیںکچھ کیفیت نہیں ہے یہ پیالہ پلائے بن

گر بر میں ہو نہ کوئی تو پہلو تہی رہےکیا بیٹھنا ہے زانو سے زانو بھڑائے بن

کوئی نہ دے دکھائی تو کیا خاک دیکھیےرہتے اسیر غم ہیں کسی کے بلائے بن

افکار سیکڑوں ہوں اگر ہو نہ فکر عشقوارستگی کہاں ہے کہیں جی پھنسائے بن

قاتل سے گر نہ ملیے تو جرأتؔ ہماری کیاجوں گل شگفتہ ہو نہ کوئی زخم کھائے بن

— جرات قلندر بخش