9 اشعار

کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیا

Kis ja nah beqaraari se main khastah-tan gaya

کس جا نہ بے قراری سے میں خستہ تن گیاپر دیکھنے کا اس کے کہیں ڈھب نہ بن گیا

کس کس طرح کی کی خفگی دل نے مجھ سے آہروٹھا کسی کا یار کسی سے جو من گیا

یارو جہاں میں اب کہیں دیکھی وفا کی چالجانے دو یہ نہ ذکر کرو وہ چلن گیا

سوسن زباں نکالے جو نکلی تو زیر خاککیا جانیے کہ کون یہ تشنہ دہن گیا

اے عشق سچ تو یہ ہے کہ شیریں نے کچھ نہ کیحسرت کا کوہ دل پہ لیے کوہ کن گیا

بس ناصحا یہ تیر ملامت کہاں تلکباتوں سے تیری آہ کلیجا تو چھن گیا

کل اس صنم کے کوچے سے نکلا جو شیخ وقتکہتے تھے سب ادھر سے عجب برہمن گیا

پیدا یہ ہجر یار میں وحشت ہوئی کہ آہاس دل کا وصل میں بھی نہ دیوانہ پن گیا

حیراں ہے تجھ کو دیکھ کے جرأتؔ مری تو عقلدو چار دن میں کیا یہ ترا حال بن گیا

— جرات قلندر بخش