12 اشعار

لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہر

Lab o dandan ka tumhare jo hai dhyan aath pehar

لب و دنداں کا تمہارے جو ہے دھیاں آٹھ پہرنہیں لگتی مری تالو سے زباں آٹھ پہر

روش سیر وہ گلشن میں جو ٹک جا بیٹھےبلبلیں گل کے اٹھایا کریں کاں آٹھ پہر

در سے اب نکلے وہ کیوں اس کو تو یہ ہے منظورکہ نکلتی ہی کسی کی رہے جاں آٹھ پہر

کیوں کہ خوں ریز رہے تیز نہ وہ تیغ نگاہسنگ سرمہ سے چڑھا کرتی ہے ساں آٹھ پہر

کہتے ہیں سب ترے عاشق کو کہ شاید اے واےہے گرفتار مصیبت یہ جواں آٹھ پہر

دل کے لگنے سے یہ دیکھا کہ لگے رہتے ہم آہخود بخود مضطرب الحال نداں آٹھ پہر

جس کا ہے دھیان ہمیں اس کو بھی اپنا ہے خیالوائے غفلت کہ یہ ہم کو ہے گماں آٹھ پہر

حسن خوبی بتاں کچھ نہ ادا ہو بخداکیجے گر لاکھ برس تک یہ بیاں آٹھ پہر

طرفہ اس جنس محبت کا بھی سودا دیکھاسود میں جس کے رہے خوف زیاں آٹھ پہر

جب سے ہے ہم سے جدا آہ وہ رشک مہ و مہرمنہ لپیٹے ہیں بس اور ہے یہی دھیاں آٹھ پہر

رات کو رات سمجھتے ہیں نہ ہم دن کو دناپنی آنکھوں میں ہے تاریک جہاں آٹھ پہر

ان دنوں آپ میں تجھ کو کبھی پاتے ہی نہیںکس کا رہتا ہے یہ جرأتؔ تجھے دھیاں آٹھ پہر

— جرات قلندر بخش