12 اشعار

یہ قصوں میں جو دکھ اٹھانے بندھے ہیں

Yeh qisson mein jo dukh uthane bandhay hain

یہ قصوں میں جو دکھ اٹھانے بندھے ہیںسو الفت ہی کے سب فسانے بندھے ہیں

قفس میں سنو لو اسیران کہنہبہ ہر شاخ نو آشیانے بندھے ہیں

خدا جانے اس گھر میں کیا ہے کہ جس کےکئی در کے آگے دوانے بندھے ہیں

وہ آنسو ہیں اپنے کہ سب کی گرہ میںکئی موتیوں کے خزانے بندھے ہیں

ہوا یہ دیار محبت کی بگڑیکہ سب رہنے والوں کے شانے بندھے ہیں

ملاقات کیا ہو رہے ٹھور بس ہمکہ جانے کے واں تو ٹھکانے بندھے ہیں

لگیں کیوں نہ تیر نگہ دل جگر پرکہ اس چشم کے یہ نشانے بندھے ہیں

فلک تیرے ہاتھوں بڑے تھے جو داناسو اب ان کے پلوں میں دانے بندھے ہیں

غضب سادہ رویوں کی ہے سادگی بھیکہ پھینٹے عجب صوفیانے بندھے ہیں

ہوئی گھر میں شادی تمہارے تو ایسیکہ جس کے جہاں میں فسانے بندھے ہیں

نہ بلوانے کا ہم کو شکوہ ہے دیکھوبندھن وار اب تک پرانے بندھے ہیں

بخیل اب یہ منعم نہیں کیونکہ جرأتؔکسے جن کے خوانوں میں کھانے بندھے ہیں

— جرات قلندر بخش