11 اشعار

مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگا

Matlab ki keh sunaun kisi baat mein laga

مطلب کی کہہ سناؤں کسی بات میں لگارہتا ہوں روز و شب میں اسی گھات میں لگا

محفل میں مضطرب سا جو دیکھا مجھے تو بسکہنے کسی سے کچھ وہ اشارات میں لگا

ہوتے ہی وصل کچھ خفقاں سا اسے ہوادھڑکا یہ بے طرح کا ملاقات میں لگا

کل رات ہم سے اس نے تو پوچھی نہ بات بھیغیروں کی یاں تلک وہ مدارات میں لگا

آیا ہے ابر گھر کے اب آنے میں ساقیاتو بھی نہ دیر موسم برسات میں لگا

مسجد میں سر بہ سجدہ ہوئے ہم تو کیا کہ ہےکم بخت دل تو بزم خرابات میں لگا

گھٹے پہ اپنے ماتھے کہ نازاں جو اب ہوئےیہ داغ شیخ جی کے کرامات میں لگا

گر مجھ کو کارخانۂ تقدیر میں ہو دخلروز قیام وصل کی دوں رات میں لگا

پرواز تا بہ عرش اگر تو نے کی تو کیاصیاد مرگ ہے تری نت گھات میں لگا

وقت اخیر آئے ترے کام جو دلااب دھیان گیان اپنا اس اوقات میں لگا

جرأتؔ ہماری بات پہ آیا نہ یاں تو آہکیا جانیے کسی کی وہ کس بات میں لگا

— جرات قلندر بخش