8 اشعار

پروا نہیں اس کو اور موئے ہم

Parwa nahin us ko aur mue hum

پروا نہیں اس کو اور موئے ہمکیوں ایسے پہ مبتلا ہوئے ہم

گو پیسے ہی ڈالے جوں حنا وہپر چھوڑیں نہ پاؤں بن چھوئے ہم

مژگان دراز اس کی کر یادسینے پہ گڑوتے ہیں سوئے ہم

رونے سے مکان خانہ بولےبس لاکھ جگہ سے اب چوئے ہم

اک بازیٔ عشق سے ہیں عاریکھیلے ہیں وگرنہ سب جوئے ہم

خوباں کو بن اس کے دیکھیں کیا خاکماٹی کے سمجھتے ہیں تھوئے ہم

دم آنکھوں میں آ رہا ہے، لو جانجلد آؤ وگرنہ اب موئے ہم

اٹھ جانے سے اس کے جرأتؔ اے واےمعلوم نہیں کہ کیا ہوئے ہم

— جرات قلندر بخش